Friday, 04 September, 2026

جلد دنیا کی بلند ترین عمارت بننے والے جدہ ٹاور نے ایک اہم سنگ میل اپنے نام کرلیا


سعودی عرب کا جدہ ٹاور جب مکمل ہوگا تو اسے دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل ہو جائے گا جو ابھی دبئی میں موجود برج خلیفہ کے پاس ہے۔

جدہ ٹاور کی تعمیر کے دوران ایک نیا سنگ میل طے کرلیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جدہ ٹاور کو آڈرین اسمتھ پلس گورڈن گل (اے ایس پلس جی جی) نامی کمپنی نے ڈیزائن کیا گیا جبکہ سعودی بن لادن گروپ اسے تعمیر کر رہا ہے۔

جدہ ٹاور کو اب تک 113 منزلوں یا 454 میٹر بلندی تک تعمیر کرلیا گیا ہے۔

اس طرح جدہ ٹاور نے بلندی کے لحاظ سے ملائیشیا کے Petronas ٹاور کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو کسی زمانے میں دنیا کی بلند ترین عمارت تھی اور اب 20 ویں نمبر پر موجود ہے۔

جلد دنیا کی بلند ترین عمارت بننے والے جدہ ٹاور نے ایک اہم سنگ میل اپنے نام کرلیا
عمارت کا تصوراتی خاکہ/ فوٹو بشکریہ جدہ اکنامک کارپوریشن
اے ایس پلس جی جی کے پارٹنر باب فارسٹ نے بتایا کہ یہ بڑا اعزاز ہے کہ جدہ ٹاور نے دنیا کی سابقہ بلند ترین عمارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ موسم گرما کے دوران تعمیراتی ٹیم کو بہت زیادہ گرمی کا سامنا تھا۔

جب یہ عمارت مکمل ہوجائے گی تو یہ دنیا کی بلند ترین عمارت قرار پائے گی جس کی بلندی 3280 فٹ تک ہوگی۔

یعنی یہ دنیا کی پہلی عمارت ہوگی جس کی بلندی ایک کلو میٹر سے زائد ہوگی۔

جلد دنیا کی بلند ترین عمارت بننے والے جدہ ٹاور نے ایک اہم سنگ میل اپنے نام کرلیا
زیرتعمیر جدہ ٹاور / فوٹو بشکریہ اے ایس پلس جی جی
خیال رہے کہ 163 منزلہ برج الخلیفہ کی بلندی 2722 فٹ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ برج خلیفہ کو بھی اے جی پلس جی جی سے تعلق رکھنے والے آڈرین اسمتھ نے ڈیزائن کیا تھا، مگر اس وقت وہ کسی اور کمپنی کے لیے کام کرتے تھے۔

باب فارسٹ نے بتایا کہ یہ نیا سنگ میل متعدد چیلنجز کے ساتھ مکمل کیا گیا جس کا سامنا بلند ترین عمارات کی تعمیر کے دوران ہوتا ہے۔

جلد دنیا کی بلند ترین عمارت بننے والے جدہ ٹاور نے ایک اہم سنگ میل اپنے نام کرلیا
اپریل میں کھینچی گئی جدہ ٹاور کی تصویر (بائیں جانب) / فوٹو بشکریہ اے ایس پلس جی جی
انہوں نے کہا کہ مگر ایک دلچسپ چیلنج جس کا سامنا ٹیم کو ہوا وہ موسم تھا جو تعمیراتی رفتار پر اثر انداز ہوتا ہے، مثال کے طور پر تیز ہوائیں تعمیراتی کام کو روکنے کا باعث بنتی ہیں۔

انہوں نے عمارت تعمیر کرنے والی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے بہترین حکمت عملیوں کو اپنایا گیا ہے تاکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رفتار سے کام جاری رہا تو جدہ ٹاور کی تعمیر اگست 2028 تک مکمل کرلی جائے گی۔

جلد دنیا کی بلند ترین عمارت بننے والے جدہ ٹاور نے ایک اہم سنگ میل اپنے نام کرلیا
اس کی تعمیر اگست 2028 میں مکمل ہونے کا امکان ہے / فوٹو بشکریہ اے ایس پلس جی جی
خیال رہے کہ اس کی تعمیر کا منصوبہ 2008 میں سامنے آیا اور تعمیراتی کام 2013 میں شروع ہوا۔

2018 میں تعمیراتی کام روک دیا گیا تھا اور کووڈ 19 کی وبا کے باعث دوبارہ کام شروع نہیں ہو سکا

2018 میں جب اس کی تعمیر روکی گئی تھی تو ایک تہائی عمارت مکمل کرلی گئی تھی۔

یہ عمارت ایک ہوٹل، اپارٹمنٹس، دفاتر، آؤٹ ڈور ڈیک اور دیگر تعمیرات سے لیس ہوگی جبکہ اس میں دنیا کا بلند ترین آبزرویشن ڈیک بھی موجود ہوگا۔

اتنی بلند عمارت کے لیے دنیا کا بہترین لفٹ سسٹم درکار ہوگا اور اس کے اندر 59 لفٹیں موجود ہوں گی۔

ان میں سے 54 سنگل ڈیک جبکہ 5 ڈبل ڈیک پر مشتمل ہوں گی جبکہ 12 escalators بھی موجود ہوں گی۔

عمارت کی باہری دیوار کا سسٹم کچھ ایسا ہوگا کہ اندر توانائی کی ضرورت کم از کم ہوگی۔

بہت جلد یہ عمارت 500 میٹر بلندی تک پہنچ جائے گی یعنی 1640 فٹ یا 50 فیصد تعمیر مکمل ہو جائے گی۔

0 comments on “جلد دنیا کی بلند ترین عمارت بننے والے جدہ ٹاور نے ایک اہم سنگ میل اپنے نام کرلیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sponsored Links