Urdu Article ( * بیادِ شاہ * )

Urdu Article on (Late) Syed Musaddiq Shah by Inayatullah Waseem EDO Finance Abbottabad
( * بیادِ شاہ * )
کہتے ہیں کہ ہر شخص اپنے بخت کے اجزاء کی مقدار مقرر لے کے اس جہان میں آنکھ کھولتا ہے۔اگر اصراف کرے گا تو اپنا حصہ وقت سے پہلے گنوا بیٹھے گا اور ہاتھ ملنے کے علاوہ کچھ چارہ نہ ہو گا۔مگر کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنے ساتھ شرافت،متانت،بردباری،خوش اخلاقی،حیاداری اور حِلم کے وہ ذخیرے ساتھ لے آتی ہیں جو ساری عمر کے بے دریغ استعمال سے بھی رتّی برابر کم نہیں پڑتے۔بخت لکھنے والا مقدار جان بوجھ کے نہیں لکھتا کہ وہ جانتا ہے کون سی ذات اپنی تمام عمر ان خصائص پر کوئی قید لاگو نہ کر پائے گی۔
ساداتِ صوابی میرہ کے سید جہان شاہ کے منجھلے فرزندِ نامور سید مصدق حسین شاہ نے بھی آنکھ ایک ایسے گھرانے میں کھولی تھی جہاں نہ تو کبھی اشیاء صرف کی کمی دیکھی نہ ہی اعلیٰ اقدار کی۔بلکہ درحقیقت یہ خاندان تواپنے پورے علاقے کی پہچان جانا جاتا رہا ہے ہمیشہ۔والد چونکہ سرکاری ملازمت سے وابستہ تھے،شاہ جی کی ابتدائی تعلیم پشاور میں ہوئی۔یہ اُس زمانے کی بات ہے جب سبھی اچھے تعلیمی ادارے تعلیمی استعداد کے ساتھ ساتھ خاندانی پسِ منظر کو بھی داخلے کے وقت ضرور سامنے رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ہر ایرہ غیرہ اسلامیہ کالج پشاور سے منسلک نہ ہو سکتا تھا۔شاہ جی دونوں معیار پہ پورے اترے اور اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا۔حق تو یہ ہے کہ اسلامیہ کالج کی خوش قسمتی تھی کہ اسے مصدق شاہ جیسا طالب علم ملا جسے ساری زندگی ان اعلیٰ اقدار کا پاس رہا جو اسے مادرِ علمی میں روشناس کروائی گئیں۔
شاہ جی نے ساری زندگی شاید اسی قید میں گزاری کہ ان کی سرمُو روگردانی ان کے قبیلے،ان کے گھرانے،ان کے علاقے بلکہ کسی بھی شخص کیلئے کسی طعنہ کا باعث نہ بن جائے۔شاہ جی خود میجسٹریٹ تھے اور اپنے آپ کو ارفع و اعلیٰ انسانی اقدار میں ساری عمر جکٹرے رکھا۔آفرین ہے اس ماں کو جس کی گود میں شاہ جی پلے بڑھے اور شاباش اس پسربے مثل کو جس نے اپنی ذات سے منسلک کسی شخص کو کبھی شرمندہ نہ ہونے دیا۔عجیب اتفاق ہے کہ اس قیدی کو رہائی بھی اگست کے مہینے میں رمضان کے آخری عشرے کی ایک طاق رات کو ملی۔
اس سال چودہ اگست کو دن گیارہ بجے میں جشنِ آزادی کی کسی تقریب کے بجائے کھلا بٹ ٹاؤن شپ ہری پور کے سیداں والا چوک میں شاہ جی کے جنازے میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ شاہ جی نے تحصیلداری سے لے کہ پولیٹیکل ایجنٹی تک نجانے کتنی بارقومی پرچم لہرایا ہو گا مگر آج اس چلچلاتی دھوپ میں رب کریم نے جو خوشگوار ٹھنڈی ہوائیں چلا رکھی ہیں وہ ہر شخص کا نصیب نہیں ہوا کرتیں۔شاہ جی یہاں بھی بازی لے گئے۔ملازمت سے فراغت تو اگلے سال ملنی تھی پھر شاہ جی کو اتنی جلدی بھی کیا تھی۔ایسی عجلت،ایسی جلد بازی توان کا خاصہ کبھی نہ تھی۔پر حالاتِ زمانہ اور پیروں میں رُلتی روایات اور ہوس کے مارے معاشرے میں وہ اور جی بھی کتنا سکتے تھے۔شاہ جی نے تو اپنے لباس پر کبھی دھبہ نہیں لگنے دیا تمام عمر اس ماحول میں دم گھُٹ جانے کا ڈر ہر آن ساتھ تھا۔وہ جلدی نہ کرتے تو کیا کرتے۔
یوں تو شاہ جی دورانِ ملازمت اپنے صوبے کے بہت سے مقامات پر اہم عہدوں پر فائز رہے مگر شرافت اور حیاداری کو ہاتھ سے کبھی نہ جانے دیا۔بعض لوگ ان کی اس روش کوان کی کمزوری سمجھتے تھے مگر جب کرُم ایجنسی میں حالات حکومتی ہاتھوں سے جانے لگے تو اربابِ اختیار کی نظر میں شاہ جی کے علاوہ کوئی نہ آیا۔شاہ جی ایڈیشنل کمشنر ہزارہ تعینات تھے کہ بلاوہ آگیا۔ کرُم میں آگ اورخون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ یہاں بھی شاہ جی نے ایسا دَم پڑھا کہ سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔شیعہ ہو یا سُنّی شاہ جی بطور پولیٹیکل ایجنٹ سب کے دل میں گھر کر گئے تھے۔خون معاف ہونے لگے،کاروبار چلنے لگے،رابطے بحال ہو گئے پھرشاہ جی کا وہاں مزید کیا کام تھا۔ وہاں سے لوٹے تو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کیلئے کام کرنے والے ادارے میں ڈائریکٹر تعینات ہوئے۔یہ کوئی آسان کام نہ تھا مگر شاہ جی کام چوروں سے بھی کام لینا جانتے تھے۔اکثر کہا کرتے کہ خود کام کرنے بیٹھ جانا الگ چیز ہے آپ کو ایک انتظامی افسر کے طور پہ دوسروں سے کام لینا آنا چاہیے۔بہترین استعدادِ کار ہی ایک اچھے افسر کی معراج ہے۔
ہمیں ہمیشہ مشعلِ راہ کے جیسے لگتے تھے۔میں ملازمت میں بالکل نووارد تھا جب ایبٹ آباد میں تعینات ہوا2002 ؁ء میں۔شاہ جی جنرل مشرف کے متعارف کردہ بلدیاتی نظام سے پہلے ہزارہ ڈویژن کے آخری ACRتھے۔نظام بدلا تو DDO (Judicial)کا دفتر سنبھالا۔افراتفری کا دور تھا۔نئے نظام کے خدوخال تک واضح نہ تھے کُجا کوئی کارگزاری۔شاہ جی کہتے تھے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں پلٹ آئے ہیں۔اب گزارہ تو کرنا پڑے گا۔ بہت سے رفقاء رخصت پہ چلے گئے کہ اسی میں عافیت گردانی۔کیوں کہ نئے حاکموں کی صورت میں نازل کردہ ناظمین کے ساتھ چلنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔مگر شاہ جی بھی دُھن کے پکے تھے۔DDRہو یا ACOیا ڈائریکٹرگلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہر دفتر کو چلایا بھی مگر اپنی روش ترک نہ کی۔ 2005 ؁ء کے قیامت خیززلزلے کے بعد جب وزیر اعلیٰ نے رمضان کے ماہ میں بھی ایبٹ آباد میں کابینہ کا اجلاس بلا لیا تو انتظامات ایسے بہترین کیے کے اس وقت کے سیکریٹری کیبینٹ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ایسا اجلاس تو کبھی پشاور میں بھی نہیں ہوا۔جب وزیر اعظم پاکستان ایبٹ آباد تشریف لائے توتمام انتظامات مکمل کروا کے ایک طرف سکون سے کھڑے ان لوگوں کو دیکھتے رہے جو اپنے عہدوں کے تقدس اور ایسے مواقع کے طے کردہ رائج طریقہ کار کو اس لیے پامال کر رہے تھے کہ شاید شاہِ وقت سے ہاتھ ملانے کا موقع مل جائے۔شاہ جی تو کارکن مکّھی تھے شہد کی انہیں ملکہ بننے کا نہ شوق تھا نہ آرزو۔
دفاتر کی مصروف زندگی سے اگر کبھی یقینی وقت نکالتے تو نماز کیلئے یا شام کو لان ٹینس۔ایبٹ آباد کلب کے ایسے ممبر جو ہر موقع پہ پیش پیش نظر آتا۔کلب کی بہتری کا کوئی موقع کبھی ضائع نہ کیا۔اباسین آرٹ کونسل ہو ،مشاعرہ ہو،ادبی مذاکرہ ہو،واک ہو یا کوئی ادبی نشست مجھے ساتھ رکھتے:
وہ جانِ بزم ہی نہیں خود انجمن بھی تھا دیکھو گیا تو حلقۂ احباب لے گیا
کبھی بھی فیلڈ میں اکھٹے جانا ہوتا تو ڈرائیور کو پچھلی نشست پربٹھا کر مجھے گاڑی چلانے کا حکم دیتے۔ساتھ ہی مسکرا کے کہتے ’’یار تم افسر تو جیسے بھی ہو مگر ڈرائیور بہت اچھے ہو‘‘ ۔وکلاء ہوں ،تاجر برادری ہو،سرکاری ملازمین،صحافی ہوں یا ادبی لوگ سبھی شاہ جی کا دَم بھرتے۔اکثر پوچھا کہ یہ کیا راز ہے کیوں کہ ہر آدمی کو ہر وقت خوش رکھنا ممکن نہیں۔عموماً جواب ملتا کہ ابھی تمہار ے بال سفید نہیں ہوئے۔سمجھ جاؤگے سمجھتے سمجھتے۔بعض اوقات راستے کے پتھر کی ٹھوکر نہ لگے تو آدمی بھٹک جاتا ہے۔ٹھوکر کھاؤ گے تو راستے پہ آؤ گے۔اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ ٹھوکر کا شاہ جی کی زندگی میں کیا کام۔ہمارے لئے تو وہ بادشاہ تھا جسے سب جانتے تھے جسے سب مانتے تھے۔
میں کیا کروں،کس سے کہوں،کون سمجھائے گا شاہ جی۔ درد جو بدن میں تھا،دل سے لگا لیا تونے۔میں افسر تو جیسا بھی ہوں ڈرائیورتو سب سے اچھا ہوں۔اتنا لمبا سفر اور مجھے بتایا بھی نہیں ۔کیا جلدی تھی شاہ جی،آواز تو دیتے پلٹ کے تو دیکھتے۔
دُعاگو
عنایت اللہ وسیم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *